علامہ اقبال
اقبال کے منظوم ترجمے
ڈاکٹر حسن الدین احمد ، حیدرآباد
ترجمہ کی اہمیت کسی تخلیق سے کم نہیں۔ لیکن یہ ترجمہ کی بنیادی خصوصیت اور کمزوری ہے کہ خواہ کتنا ہی اچھا ہو اصل جذبہ اور احساسات کی ہو بہو ترجمانی نہیں کر سکتا ۔جب یہ صورت حال ہو تو سوال پیدا ہو تا ہے کہ ترجموں کے ذریعہ اور وہ بھی چند مخصوص ادب پاروں کے ترجمے کے ذریعہ دو زبانوں کے درمیان کی خلیج کو کیسے پاٹا جا سکے گا، یہیں منظوم ترجموں کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کا ادب عالیہ اس زبان والوں کے خیالات اور احساسات کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ ایک زبان کی چند نظموں کے منظوم ترجموں کے ذریعہ اس زبان کے شاعروں کے سوچنے کے انداز سے واقفیت حاصل کی جا سکتی ہے۔
منظوم ترجموں کی مشکلات:
ترجمہ خود ایک فنی کام ہے جو تخصیص چاہتا ہے۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ ادبیات کا خاطرخواہ ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ شعر کا منظوم ترجمہ تو تخلیقی صلاحیت بھی چاہتا ہےتنگنائے ترجمہ میں طبع آزمائی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ منظوم ترجموں میں اصل تخلیق کے مجموعی تاثر کو پیش کرنا ہوتا ہے اور جس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے اس کے اپنے اسلوبﹺ بیان اور لب و لہجہ کو جملہ خصوصیتوں کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ انگریزی اور اردو کی حد تک تو زبانوں کی روش، ان کا مزاج اوراظہارﹺخیال کےاسالیب بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
انگریزی شاعری کے منظوم ترجمے کم و بیش تین سو شاعروں نے کئے ہیں، ان شاعروں نے ایک سے زیادہ پابندیوں کو اپنے اوپر عائد کیا اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں آپس میں مسابقت بھی کی۔
یہ بات کہ انگریزی کے مخصوص شاعروں ہی نے ہمارے شاعروں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ان کی تقریباً ساڑے سات سو نظموں ہی کے منظوم ترجمے ہوئے ۔۔۔ یقیناً چونکا دینے والی ہو گی۔
انگریزی شاعری کے منظوم تراجم کی حد تک ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر دور میں اردو ادب کے کسی نہ کسی بڑے چار نے اس میدان میں طبع آزمائی کی۔ انشاء ّہوں کہ غالب ، حالی ہوں کہ اکبر الہ آبادی، نظم طبا طبائی ہو کہ سرور جہاں آبادی ان سب کا تعلق منظوم ترجموں سے رہا اور ان سب نے اردو شاعری کے ساتھ ساتة منظوم ترجموں کی طرف توجہ کی ۔
بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی منظوم ترجموں سے اردو کے ایک عظیم شاعر ﴿۱﴾
کا نام وابستہ ہوتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں منظوم ترجموں کی طرف توجہ کی۔
جس طرح اردو شاعری کی اہم صنف منظوم ترجمہ پر اس وقت تک بہت کم توجہ دی گئی ہے، اسی طرح اگر اقبال کی شاعری کے کسی گوشہ کو قریب قریب نظر انداز کیا گیا ہے تو وہ اقبال کے منظوم ترجمے ہیں۔ حالانکہ اقبال ن جو منظوم ترجمے کئے ہیں ان کے علاوہ ان کی شاعری کا ایک قابلﹺ لحاظ حصہ ایسا بھی ہے جو مغربی شعرا کے کلام سے متاثر ہے۔
پروفیسر عبد القا در سروری اپنی کتاب "جدید اردو شاعری" میں لکھتے ہیں۔
"اقبال کی ابتدائی شاعری کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو مغربی شعراء جیسے ٹینی سن، ایمرسن اور گوئٹے وغیرہ کے کلام سے ماخوذ ہے، یہ درحقیقت اقبال کی موضوعی نظموں کا اولین نقش ہیں۔ اکثر شعراء جنہوں نے مغربی نظموں کے مقابلے میں نظمیں لکھنے کی کوشش کی ہے، پہلے مغربی شعراء کے کلام کو نمونہ بناتے رہے۔"
مخزن اپریل ۱۹۰۴ء میں سر عبدالقادر کا سہ سالہ ریویو شائع ہوا ۔ انہوں نےلکھا :
مخزن کا ایک مقصد اردو نظم میں مغربی خیالات، فلسفہ اور سائنس کا رگنگ بھرنا اور نتیجہ خیز مسلسل نظم کو رواج دینا تھا تاکہ نظم اردو کا رنگ نکھرے، اس کے اثر کا حلقہ وسیع ہو اور جو لوگ انگریزی نظم کی خوبیوں کے دلدادہ ہیں ان کی نسل کے لیے بھی کچھ سامان ملکی زبان میں مہیا ہو جائے۔ یہ مقصد بھی خاطرخواہ پورا ہوا اور اس کے پورا کرنے میں سب سے زیادہ کوشش شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے اور نیرنگ بی۔اے کی طرف سے ہوئی، جن کے کلام کا مجموعہ جب شائع ہوگا تو شائقین دیکھیں گے کہ کتنے نئے خیالات اور کس کس خزانے کےعلمی جواہرات ان دل آویز چھوٹی چھوٹی نظموں میں جمع کئے گئے ہیں۔
اقبال نےانگریزی ادب کا بنظر غائرمطالعہ کیا تھا اوراس پر ان کی گہری نظرتھی۔ یورپ اور انگلستان کے قیام اور وہاں کی تعلیم کے دوران انگیزی ادب سےان کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔ اپنے ہم عصر ادیبوں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ مغربی ادب کے فن پاروں سے اردو ادب مالا مال کریں ۔ جب اقبال ۱۹۰۸ ء کے وسط میں یورپ سےواپس ہوئےتومخزن کے اڈیٹر شیخ عبدالقادر نے ان سے فرمائش کی کہ وہ انگریزی نظموں کے منظوم ترجموں کی طرف توجہ کریں۔ چنانچہ مخزن کے پہلے شمارہ ﴿اپریل ۱۹۰۱ء ﴾ میں اقبال کی نظم "کوہستان ہمالہ" کے عنوان سے شائع ہوئی جس پر اڈیٹر کی طرف سے یہ نوٹ ہے۔
شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور جو علوم مشرقی اور مغربی دونوں میں صاحب کمال ہیں، انگریزی خیالات کو شاعری کا لباس پہنا کر ملک الشعراانگلستان ورڈسورتھ کے رنگ میں ہمالہ کو یوں خطاب کرتے ہیں۔
اپنی ابتدائی شاعری میں اقبال نے مغربی شاعروں سے بھر پور استفادہ کیا۔ اس کے متعلق لکھتے ہیں۔
"میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے ہیگل، گوئٹے، غالب، بیدل، اور ورڈسورتھ سے ﴿۲﴾
بہت استفادہ کیا ہے۔ ہیگل اور گوئٹے نے اشیاء کی باطنی حقیقت تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ غالب اور بیدل نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مغربی شاعری کے اقدار کو سمولینے کے باوجود اپنے جذبہ اور اظہار میں مشرقیت کی روح کو کیسے زندہ رکھوں اور ورڈسورتھ نے طالب علمی کے زمانے میں مجھے دہریت سے بچالیا"
اقبال کے ابتدائی کلام میں انگریزی شاعری کی صدائے بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔ رسالہ مخزن﴿جنوری ۱۹۰۴ء﴾ میں انگریزی شاعر ڈائک کے تین شعروں کا ترجمہ شریک ہے، جو اقبال نے عبدالغفار خاں کی فرمائش پر لکھے تھے۔ ذیل میں چند مثالیں نمونہ کے طور پر پیش ہیں۔ جن انگریزی اشعار کا یہ عکس ہیں، کو ساتھ ساتھ پیش کیا ہے۔
کلیہء افلاس میں دولت کے کاشانے میں موت
دشت ودرمیںشہرمیں گلشن میں ویرانے میں موت
موت ہے ہنگامہ آرا قلزم ﹺ خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں
کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت
گلشن ﹺہستی میں مانند حباب ارزاں ہے موت
Death is here and death is there
Death is busy every where
All around, within, beneath
Alone is death… and we are death
Shelley “Death” 1820
آہ غافل موت کا راز ﹺ نہاں کچھ اور ہے
نقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہے
موت تجدید ﹺمذاق ﹺزندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
There is no such thing as death
In nature nothing dies
From each sad remnant of decay
Some form of life arise
Charles Mackay “No such thing as death”
حیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کا
رخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا
رفتہ و حاضر کو گویا پابہ پا اس نے کیا
عہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیا
Bless be the art that can immortalize
The art that baffles Time’s tyrannic claim
To quench it here shines on we still the same
Faithful remembrance of one so dear
William Cowper. “On The receipt of my mother’s picture”
اب کوئی آوز سوتوں کو جگا سکتی نہیں
سینہء ویراں میں جاں آسکتی نہیں
But who shall mend the clay of man,
The stolen breath to man restore
Sir Richard Burton “The Kasidah”
Labels: علامہ اقبال

